The teacher is a nation builder استاد… …قوم کا معمار، معلم قوم کا اثاثہ

0
68

استاد… …قوم کا معمار، معلم قوم کا اثاثہ

استاد کو قوم کا معمار کہا اور روحانی والدین کا درجہ دیا جاتاہے۔ استاد کا پیشہ ایسا ہے جس کا تعلق پیغمبری سے ہے۔ اس پیشے کا مقصد ہی انسان سازی ہے جو ایک ایسی صنعت کا درجہ رکھتا ہے جس پر تمام صفات کا ہی نہیں بلکہ ساری زندگی کا دارومدار ہے۔ معلمین کسی بھی قوم کی تعمیر و ترقی میں ریڑھ کی ہڈی کی مانند ہوتے ہیں لیکن ہمارے معاشرے میں استاد کے بارے میں عموماً غیر سنجیدہ قسم کی رائے رکھی جاتی ہے اور انہیں وہ مقام نہیں دیا جاتا جس کے وہ حق دار ہیں۔ قومیں جب بھی عروج حاصل کرتی ہیں تو اپنے اساتذہ کی تکریم کی بدولت ہی حاصل کرتی ہیں۔کسی قوم پر زوال آنے کی سب سے بڑی وجہ بھی اساتذہ کی تکریم چھوڑ دینا ہے۔اساتذہ کی عظمت کے بارے میں دنیا بھر کی زبانوں میں بے شمار اقوال موجود ہیں اور مہذب معاشروں میں انہیں قدر و منزلت کی نگاہوں سے دیکھا جاتا ہے۔

ترقی کی منزلیں تعلیم سے جڑی ہیں اور کون ہے جو تعلیم میں اساتذہ کے کردار سے انکار کرے۔ غالباً درس و تدریس کے شعبے میں سب سے زیادہ افراد کام کرتے ہیں۔اساتذہ کا عالمی دن ہر سال 5 اکتوبر کو منایا جاتا ہے جس کی ابتداء 1994ء سے ہوئی تھی۔ یونیسکو، یونیسف اور تعلیم سے منسلک دیگر اداروں کی جانب سے اس دن جہاں اساتذہ کو خراج تحسین پیش کیا جاتا ہے وہاں ان مسائل کا جائزہ بھی لیا جاتا ہے جو انہیں درپیش ہیں۔ استاد ایک اچھے تعلیمی نظام کا بنیادی عنصر، اس کی روح ہیں اور جب تک اساتذہ کو معاشرے میں عزت نفس نہیں ملتی، وہ مقام نہیں ملتا جس کے وہ مستحق ہیں، وہ اپنے فرائض کو بخوبی انجام نہیں دے سکتے۔ایک اندازے کے مطابق دنیا بھر میں ابتدائی لازمی تعلیم کے لئے 5,420,000 اساتذہ کی خدمات درکار ہیں۔ ان میں سے 1,760,000 نئے اساتذہ ہوں گے اور 3,660,000 اساتذہ ان لوگوں کی جگہ لیں گے جو مختلف وجوہات کی بناء پر اپنے عہدے سے سبکدوش ہوجائیں گے۔پنجاب آبادی کے لحاظ سے سب سے بڑا صوبہ ہے جہاں اسی تناسب سے اساتذہ کی تعداد سب سے زیادہ ہے، یعنی54.71 فیصد جبکہ گلگت بلتستان میں یہ سب سے کم ہے، صرف 0.74 فیصد۔ سندھ میں اساتذہ کی تعداد مجموعی تعداد کا 20.81 فیصد ہے جبکہ کے پی میں 13.61 فیصد، بلوچستان میں 3.82 فیصد، اسلام آباد میں 1.12 فیصد، فاٹا اور آزاد کشمیر اور جموں میں بالترتیب 1.82اور 3.40 فیصد ہے۔ جنس کی بنیاد پر دیکھا جائے تو خواتین اساتذہ کم ہیں جس کی وجہ ہمارے ملک کا جاگیرداری اور قبائلی نظام ہے۔پنجاب میں خواتین اساتذہ کی تعداد ملک بھر میں سب سے زیادہ، یعنی 56 فیصد ہے۔ اور سندھ میں 52 فیصد ہے۔ کے پی اور بلوچستان میں صورت حال بالکل برعکس ہے۔ کے پی میں مرد اساتذہ 61 فیصد اور عورتیں 39 فیصد ہیں جبکہ بلوچستان میں مرد اساتذہ 64 فیصد اور خواتین اساتذہ 36 فیصد ہیں۔ اسلام آباد میں خواتین اساتذہ کی تعداد ملک بھر میں سب سے زیادہ 68 فیصد ہے، جبکہ فاٹا میں سب سے کم ہے جہاں خواتین اساتذہ صرف 28 فیصد ہیں۔پاکستان میں تعلیمی قوانین کے مطابق پرائمری اسکولوں میں پڑھانے کے لیے ضروری ہے کہ امیدوار گریجویشن کی ڈگری کے ساتھ بی ایڈ کی ڈگری اور مڈل اور ہائی اسکول میں پڑھانے کے لئے بی ایڈ کی ڈگری کے ساتھ ماسٹرز کی ڈگری کا حامل ہو۔ لیکن زمینی حقائق اس سے مختلف ہیں۔

اساتذہ کی بڑی تعداد اس معیار پر پوری نہیں اترتی۔ہمارے ملک میں استاد کی مجموعی صورتحال ، معاشرے اور ارباب اختیار کے رویے پر نظر ڈالی جائے تو اساتذہ سب سے مظلوم اور پسماندہ طبقہ معلوم ہوتے ہیں جو اپنے بنیادی حقوق سے محروم اور شدید ذہنی اذیت سے دوچار ہیں۔ تعلیم کی تکمیل کے بعد جب کسی فرد کو کوئی راہ دکھائی نہیں دیتی تب وہ تدریس کے شعبے سے وابستہ ہو جاتا ہے۔ اس کی بنیادی وجہ یہی ہے کہ اساتذہ کے مسائل نشاندہی کے باوجود کم ہونے کی بجائے مسلسل بڑھتے ہی جارہے ہیں مگر پھر بھی وہ قوم کے مستقبل کو سنوارنے اور نکھارنے کے لئے اپنا آپ وقف کئے ہوئے ہیں۔ یہ استاد ہی ہے جس نے طالبعلم کو زندگی کا سلیقہ اور مقصد سکھایا ، سوچ اور فکر کی راہ متعین کی ، اعتماد دیا ، زندگی کی گٹھیاں سلجھانے کے گر بتائے ، محبتوں کے ساتھ اس وقت پہلا سبق پڑھایا جب ہم کچھ نہیں جانتے تھے ، ان پڑھ اور جاہل تھے ، ہمارے اساتذہ نے اپنی صلاحیتیں ہم پر صرف کیں اور ہمیں اس قابل بنایا کہ آج ہم مضبوط کردار اور مثبت روایات کے امین اور معاشرے میں ایک مقام رکھتے ہیں۔ مقام افسوس ہے کہ آج استاد کو محض درانتی اور کھرپا بنانے والا کاریگر سمجھ لیا گیا ہے جو ایک لگی بندھی ڈگر کے ساتھ دیہاڑی پر درانتیاں بناتا چلا جائے۔ اساتذہ کے مسائل کیا ہیں ، انہیں دہرانے کی ضرورت نہیں کیونکہ اس موضوع پر چیخنا چلانا تو کئی دہائیوں سے جاری ہے تاہم یہ بات دہرادینا لازمی ہے کہ وسائل کی عدم دستیابی اور معاشی طور پر مضبوط نہ ہونا اساتذہ کے اہم ترین بنیادی مسائل ہیں۔ جس شخص نے نسلِ نو کی تربیت کرنی اور ایک سلجھا ہوا معاشرہ پیدا کرنا ہے وہ حکومت کی طرف سے بنیادی سہولیات سے محروم ہے یہی وجہ ہے کہ آج کے اساتذہ میں ماضی کے اساتذہ جیسی خوبیاں نہیں ہیں۔ ہمارے اساتذہ نے ہماری تعلیم و تربیت کا بیڑہ اٹھایا تو اپنا فرض اس بھرپور طریقے سے نبھایا کہ صرف پڑھایا ہی نہیں بلکہ اخلاقی طور پر بھی مضبوط کیا۔ ہمیں صرف کتابی تعلیم ہی نہیں دی بلکہ دینی ، اخلاقی ، روحانی ، جسمانی ، ذہنی ، معاشرتی اور ہر طرح کی تعلیم و تربیت سے بھی ہمکنار کیا۔ زمانے کے اتار چڑھاؤ سے لے کر اپنے احتساب تک ، ہماری کردار سازی میں انہوں نے اپنا پورا حق یوں اداکیا کہ بے اختیار انہیں خراج تحسین پیش کرنے کو جی چاہتا ہے۔ ان کا نام ہی نہیں ، خیال بھی آئے تو ہم بے اختیار احترام میں کھڑے ہوجاتے اور اپنی قسمت پر ناز کرتے ہیں کہ ہمیں وہ استاد ملے جن کی تربیت پر ہمیں فخر ہے 5 اکتوبر کا دن سیمینارز ، واک اور ایسی دیگر سرگرمیوں کے ذریعے حکام بالا تک وطن عزیز کے لاکھوں اساتذہ کی آواز پہنچائی جاتی اور یہ باور کرایا جاتا ہے کہ ’’استاد کے مسائل کا حل جلسوں، مظاہروں ،قراردادوں ، سیمینارز اور کانفرنسوں میں ہونے والے مطالبات، دعووں اور وعدوں میں نہیں بلکہ اب انہیں عملی جامہ پہنانے میں پوشیدہ ہے‘‘۔ بلاشبہ یوم اساتذہ جہاں اساتذہ کی تکریم کے احساس کا دن ہے وہیں اس عزم کے اعادے کا بھی دن ہے کہ اگر ایک بہترین قوم کی تشکیل درکار ہے۔

LEAVE A REPLY