Beacon House Destroying Pakistan بیکن ھاؤس …. ” عفریت “

0
116

بیکن ہاؤس …. ” عفریت ” ؟؟

کیا یہ ممکن ہے کہ کوئی “سکول” کسی ریاست کو شکست دے دے؟؟

مم ۔۔۔۔۔۔

بیکن ہاؤس کا نام سب سے پہلے سوشل میڈیا پر تب گردش میں آیا جب وہاں موجود طالبات نے اپنے خون آلود پیڈز اور زیر جامے دیواروں پر چسپاں کر کے اپنی ” آزادی ” کا مظاہرہ کیا۔ اور پھر وہاں طلباء و طالبات کی مخلوط ڈانس محفلوں کی تصاویر سوشل میڈیا کی زینت بنیں۔

بظاہر بڑی خوبصورت عمارت اپنے اندر پاکستان اور اسلام کے دشمن پیدا کررہی ہے۔

پھر وہاں کے پڑھائے جانے والے نصابی کتب کے سکرین شاٹس شئیر ہوئیں جن میں پاکستان کے ایسے نقشے تھے جہاں مقبوضہ اور آزاد کشمیر کے علاوہ گلگت بلتستان کو بھی انڈیا کا حصہ دکھایا گیا تھا اور ان کتابوں میں ان کو “انڈین سٹیٹس” لکھا گیا تھا۔ اور یہ معاملہ کسی ایک کتاب تک محدود نہیں تھا بلکہ تقریباً تمام کلاسسز کی تمام کتابوں میں تھے جن کے خلاف سوشل میڈیا، میڈیا حتی کہ سپریم کورٹ کے احکامات بھی بے اثر ثابت ہوئے۔

بیکن ہاؤس کے خلاف سوشل میڈیا پر آواز اٹھانے والے بیکن ہاؤس کے سابق ملازم ارمغان حلیم صاحب کو اس قسم کے مواد کے خلاف آواز اٹھانے زدوکوب کیا گیا اور قتل تک کی دھمکیاں ملیں۔

بیکن ہاؤس اور اس کے ذیلی ادارے “دی ایجوکیٹر” میں انڈین سرمایہ کاری کا انکشاف ہوا۔ 1996ء میں ان سکولوں میں ورلڈ بینک کے ذیلی ادارے “انٹرنیشنل فائنیس گروپ” نے براہ راست کئی ملین ڈالر کی سرمایہ کی۔

بیکن ہاؤس پاکستان کا سب سے مہنگا سکول ہے۔ ایک اندازے کے مطابق بیکن ہاؤس ماہانہ 5 تا 6 ارب اور سالانہ 60 تا 70 ارب روپیہ پاکستانیوں سے نچوڑتا ہے۔

یہ پاکستان کے سابق وزیر خارجہ خورشید محمد قصوری کی بیگم نسرین قصوری کی ملکیت ہے جن کو ان کا بیٹا قاسم قصوری چلاتاہے۔ یہ خاندان اس تعلیمی ادارے کی بدولت کھرب پتی بن چکا ہے۔

خورشید محمد قصوری وہی صاحب ہیں جس نے پندرویں آئینی ترمیم (شریعہ بل) کے خلاف احتجاجً استعفی دیا تھا۔ (شائد اسلام سے نفرت اس پورے خاندان کے خون میں شامل ہے)

لبرل ازم کا علمبرادار ” بیکن ھاؤس ہر سال پاکستانی سوسائیٹی میں اپنے تربیت یافتہ کم از کم 4 لاکھ طلبہ گھسیڑ رہا ہے۔ یہ طلبہ پاکستان کے اعلی ترین طبقات سے تعلق رکھتے ہیں جن میں سرکاری اداروں کے بڑے بڑے بیوروکریٹ، صحافی، سیاستدان، بزنس مین اور وڈیرے شامل ہیں۔

پاکستانی معاشرے میں سرائیت کرنے والے ان طلباء کی اکثریت تقریباً لادین ہے۔ وہ ان تمام نظریات اور افکار کا تمسخر اڑاتے نظر آتے ہیں جن پر نہ صرف ہمارا معاشرہ کھڑا ہے بلکہ جن کی بنیاد پر پاکستان بنایا گیا تھا۔ حد یہ ہے کہ ان طلباء کی اکثریت کو اردو سے بھی تقریباً نابلد رکھا جاتا ہے۔ جو اسلام کے بعد پاکستان کو جوڑے رکھنے والا دوسرا اہم ترین جز ہے۔

پاکستان کے اعلی ترین طبقے سے تعلق رکھنے والے ان طلباء کی اکثریت بڑی تیزی سے پاکستان میں اہم ترین پوزیشنیں سنبھال رہی ہے۔ اسی طبقے کا ایک بڑا حصہ فوج میں بھی جارہا ہے جو ظاہر ہے وہاں سپاہی بھرتی ہونے کے لیے نہیں جاتا۔

اگر بیکن ہاؤس اسی رفتار سے کام کرتا رہا تو آنے والے پانچ سے دس سالوں میں پاکستان ایک لبرل ریاست بن چکا ہوگا جس کے بعد اس کے وجود کو پارہ پارہ ہونے سے کوئی نہیں روک سکے گا۔

مشہور زمانہ گرفتار شدہ ملعون آیاز نظامی کے الفاظ شائد آپ کو یاد ہوں کہ:

“ہم نے تمھارے کالجز اور یونیوسٹیز میں اپنے سلیپرز سیلز ( پروفیسرز اور لیکچررز ) گھسا دئیے ہیں۔ جو تمھاری نئی نسل کے ان تمام نظریات کو تباہ و برباد کر دینگے جن پر تم لوگوں کا وجود کھڑا ہے۔ انہیں پاکستان کی نسبت پاکستان کے دشمن زیادہ سچے لگیں گے۔ وہ جرات اظہار اور روشن خیالی کے زعم میں تمھاری پوری تاریخ رد کردینگے۔ انہیں انڈیا فاتح اور تم مفتوح لگو گے۔ انہیں تمھارے دشمن ہیرو اور خود تم ولن نظر آؤگے۔ انہیں نظریہ پاکستان خرافات لگے گا۔ اسلامی نظام ایک دقیانوی نعرہ لگے گا اور وہ تمھارے بزرگوں کو احمق جانیں گے۔ وہ تمھارے رسول پر بھی بدگمان ہوجائینگے حتی کہ تمھارے خدا پر بھی شک کرنے لگیں گے”

بیکن ہاؤس نے “تعلیم” کے عنوان سے پاکستان کے خلاف جو جنگ چھیڑ رکھی ہے اس کو روکنے میں میڈیا اور سپریم کورٹ دونوں ناکام نظر آرہے ہیں۔ اس “عفریت” کو اب عوام ہی زنجیر ڈال سکتے ہیں۔ یہ کام ہم سب نے ملکر کرنا ہے۔

ان شاءاللہ آج سے اس کام کا باقاعدہ آغاز کرتے ہیں۔

یہ ہمارا فیس بک پیج ہے جس پر نہ صرف بیکن ہاؤس بلکہ تعلیمی اداروں میں بیٹھے ان تمام بیورکریٹس کو بھی بے نقاب کیا جائیگا جو اس پاکستان مخالف مہم پر آنکھیں بند کیے بیٹھے ہیں یا اس کا حصہ بنے ہوئے ہیں۔

https://web.facebook.com/itinfourdu/

بیکن ہاؤس کے حوالے سے سپریم کورٹ اور حکومت کو جلد از جلد نوٹس لینا چاہئے اور اس بڑھتے ہوئے عفریت کے خلاف موثر کاروائی کرنی چاہئے۔ اس کے علاوہ محب وطن میڈیا چینلز بھی اس حوالے سے اپنا کردار ادا کریں۔

اس جنگ میں ہمارا ساتھ دیں اور اس پوسٹ کو اپنے اپنے پیجز اور ٹائم لائنز پر شیر کریں۔

تحریر شاہدخان

نوٹ ۔۔ اگر اس حوالے سے بیکن ہاؤس کی انتظامیہ اپنا موقف دینا چاہتی ہے تو ہمیں کمنٹ کرسکتی ہے۔

LEAVE A REPLY