A man from Pakistan ISI پاکستان آئی ایس آئی کے جوان کی کہانی

0
121

A man from Pakistan ISI پاکستان آئی ایس آئی کے جوان کی کہانی

آئی ایس آئی کی ڈیوٹی   (ایک سچی کہانی)

5_6 مہینوں سے گھر کے ساتھ کوئی رابطہ نہیں ہوا تھا ۔
نہ کال ۔۔نہ۔کوئی میسج ۔۔ نہ مجھے پتا گھر والے کیسے ہیں نہ انکو پتا میں کس۔حال۔میں کہاں ہوں ۔۔
لیکن معاملہ چلتا رہا ۔۔ میں پہنچا تو اتنا تھکا ہوا تھا کہ وہ۔حال لفظوں میں بیان کرنا ممکن نہیں ۔۔ ایک بڑے اڈے میں گیا جہاں سارے بڑے بڑے ٹرک کھڑے تھے ۔۔ کچھ دیر گھومنے کے بعد میں ایک ٹرک میں پیچھے سو گیا ۔۔
رات کیسی۔گزری پتا ہی۔نہ چلا ۔۔ بلکل بے خبر سوتا رہا ۔۔

صبح جب ٹرک کا کنڈیکٹر کسی کام کے لئے ٹرک میں۔پیچھے چڑھا اور مجھے دیکھا ۔ تو اکر جگا دیا ۔۔ میں اٹھ گیا تھوڑی بات ہوئی پہلے تو وہ میری۔حالت دیکھ کر مجھے چور سمجھا لیکن جب۔میں نے کہاں ۔۔نہیں بھائی ڈر مت میں کوئی چور نہیں۔وہ۔فلاں بندے کے۔ساتھ شاگرد ہوں ۔ تب وہ بھی تھوڑا نارمل۔ہو۔گیا ۔۔۔ ورنہ میں ٹوٹل جھوٹ بول۔رہا تھا ۔ بس میں۔نے اپنی طرف سے نام۔لیا ۔ وہ۔فلاں استاد کے ساتھ کام۔کرتا ہوں ۔ لیکن رات کو۔لڑائی ہوئی تھی اس لئے یہاں سو گیا ۔۔ خیر وہاں سے۔نکل کر۔میں سیدھا اپنے دفتر پہنچا ۔۔ جب یونٹ کے بندوں نے مجھے صحیح سلامت دیکھا تو بڑے خوش ہوئے ۔۔ اور پھر ہم اندر بیٹھ گیے ۔ کافی گپ شپ بھی ہوئی ۔۔ کچھ دیر کے لئے میں بھول گیا ۔۔ کہ اتنا عرصہ میں کہا تھا ۔ کیا کرتا رہا ۔ کتنے مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ۔ اور کن کن مراحل کو عبور کرکے میں واپس اپنی منزل تک پہنچا ۔۔۔۔

جب میں اپنی ساری تفصیل اپنے سینیرز کو دے دی ۔۔ اور مجھے وہاں سے شاباش بیٹے کے ساتھ ساتھ اور بھی بہت پیار ملا ۔ ۔ تب میں نے کہا ۔۔ سر میں گھر جانا چاہ رہا ہوں ۔۔ گھر والے پریشان ہونگے ۔ مل۔بھی لونگا ۔ چھٹی گزار کے اجاونگا واپس ۔۔۔ اور چھٹی اسانی سے مل۔گئی ۔ ۔ اپنا سامان باندھ کے بس کی ٹکٹ لی ۔ اور سوچا ۔ چلو گھر والوں کو سرپرائز دونگا ۔۔ بڑا کچھ سوچتا رہا ۔ والدہ اور والد اور بہن کے لئے کچھ چیزیں بھی خرید لیں ۔ ۔ تقریبا ادھا سفر طے ہو چکا تھا ۔۔ مجھے اپنے ایک سینیر کی کال ائی ۔۔ اور بس اتنا سا کہا گیا ۔۔۔۔۔ میرے شیر تم۔جہاں بھی ہوں ۔ واپس اجاو مجھ سے ملنے ۔ بڑا ضروری مشن سٹارٹ کرنا ہے ۔نہ ہماری پاس وقت ہے نہ بندہ ۔۔۔ یہ تمہیں ہی کرنا ہے ۔۔۔۔ اور واپس میں نے اتنا سا کہا ۔۔۔۔ او کے سر ۔
بس اگے جاکر رک گئی لوگ کھانے میں مصروف ہوگئے ۔ میں نے ایک بسکٹ لی اور چائے کا ایک کپ لے کر بیٹھ گیا ۔۔
جیب سے موبائل نکالا ۔۔ والدہ کا نمبر ڈایل کیا ۔۔ جب والدہ۔نے کال ریسیو کی ۔ ہیلو کے ساتھ ہی رونا شروع ۔۔
بیِٹا کدھر ہے تو ۔ کیسا ہے تو ۔ کہاں غائب رہا ۔۔
میں تسلیاں دیتا رہا ۔۔ باتیں کافی ہوگئی ۔۔ تب والدہ نے کہا ۔ بیٹا تیری بہن کی شادی کی تاریخ پکی ہو چکی ہے ۔ تم ضرور انا ۔ کیوں کہ ابا اکیلے ہیں ۔ چھوٹا اپنی موج مستیوں میں رہتا ہے کام۔کاج نہیں کرتا ۔ تم اجانا تا کہ ابو کا ہاتھ بٹھا سکو۔ اور ایک ہی تو۔بہن ہے اسے خود رخصت کرو ۔۔ میں چھپ چاپ۔سنتا رہا ۔۔ والدہ۔کہتی ہے ۔۔ بیٹا اتنی خاموشی کیوں ۔۔ یا پھر کچھ جھوٹ بولنے کی تیاری کررہے ہوں ۔۔میں۔نے کہا ۔۔ ماں جی ۔ میں دور ہوں ۔ لیکن سارے کزن کو کال کر لونگا وہ اجائینگے ابو کے ساتھ رہینگے اور سارے کام بھی کردینگے لیکن میں ۔۔۔۔ یہاں والدہ۔نے کہا ۔۔ لیکن میں نہیں اسکتا ۔ کیوں کہ بہت سارے فوجیوں کی بہنیں ایسے ہی رخصت ہوجاتی ہے اور انکے بھائی گھر پر۔نہیں ہوتے کیوں کہ انہوں نے اس بہن کے علاوہ اور بھی بہنوں کا۔خیال جو رکھنا ہے ۔۔۔ ہے نہ فوجی صاحب ۔۔۔۔۔ یہاں میں کچھ نہ۔بول۔سکا ۔ ۔بس یہ خواہش ظاہر کردیں ۔۔ کیا میں اپنی بہن سے بات کرسکتا ہوں ۔ پیچھے سے بہن کی اواز اتی ہے ۔۔۔ بات کرنی ہے تو گھر اکر کرو ۔ موبائل۔پر۔جھوٹی تسلیاں۔نہیں چاہیے ۔۔ میں پھر بھی چھپ ۔ ۔ اس وقت اگر میں یہی کہتا ۔ کہ۔میں گھر ارہا تھا لیکن۔کسی کام۔کی۔وجہ سے پھر واپس۔ہونا پڑا ۔ تب بھی سب یہی کہتے جھوٹ بول رہا۔ہے تو ۔۔
اسلئے۔ایسا۔کوئی ذکر ہی نہیں۔کیا ۔۔۔۔۔۔ اور واپس کا۔ٹکٹ لے کر آفس اگیا ۔۔ اور وہاں سے اپنے دوسری۔مشن۔کی تیاری شروع کی ۔۔ اور نکل۔پڑا ۔۔۔۔۔۔ یہاں مین مقصد کیا ہے ۔۔
گھر والوں سے دوری ۔۔ مشکلات کا سامنا ۔۔
وطن سے محبت ۔ اور وطن کی رکھوالی ۔۔
جوش و جذبہ ۔ کہ نہ تھکا ۔ نہ افسوس ۔
بس ایک۔مشن کے مکمل۔ہونے پر دو رکعت نفل ۔
اور دوسری مشن کے شروعات پر دو رکعت نفل تا کہ یہ۔بھی کامیابی اور خاموشی سے تکمیل۔تک۔پہنچے ۔۔۔
دوستوں اپ صرف پڑھ۔لینگے ۔۔ کچھ لائکس۔اور کمنٹس بھی۔کرلینگے ۔۔۔۔ لیکن جن پر گزرتی ہے درد کا پتا انکو ہے ۔
لیکن دوستوں ۔۔ یہاں معاملہ۔میرے پاک سرزمین کا ہے اور اس پر رہنے والے نادان قوم کا ۔۔۔۔۔۔۔ جہاں۔تک ہو سکے ہم جان کی بازی لگا کر خدمت کرینگے۔ لیکن۔اپ۔بھی اپنا حق ادا کرو اس سرزمین کا جس پر اپ کھلے عام کھلی ہوا میں۔سانس لیتے ہیں اور کہتے ہیں ۔۔۔۔۔ ہم۔آزاد ہیں ۔۔۔۔۔۔

دوستوں اج دوسرے۔ممالک۔کا۔حال۔دیکھ۔لے ۔ عراق ۔ یمن ۔ شام ۔ افغانستان ۔۔۔ کیوں۔کہ انکے پاس حب وطن لوگ کم۔تھے اور غدار زیادہ ۔۔۔۔۔۔ تو اسلیے اج انکے حال۔پر نظر ڈالیں ۔ اور دوسری طرف اپنے حال۔۔ کہ۔پرسکون نیند سو جاتے ہو اور صبح اٹھ کر ارام سے ۔ سکول ۔ کالج ۔ دفتر ۔ کاروبار ۔ کے لئے نکل۔جاتے ہوں۔۔۔ تو اس بات کو بھی سمجھوں ۔۔۔۔ کوئ تو ہے گمنام۔ جو اپکے سکون کی خاطر اپنا سکون لُٹا کے زندگی گزار رہے ہیں۔۔ تاکہ اپ سکون سے رہوں ۔ اور پاک سرزمین پاک ہی رہے۔
آؤ ایک مہم چلائیں پاک آرمی سے محبت کی دنیا کو یہ پیغام دیں کہ پاک آرمی کے ساتھ پاکستانی قوم کی محبتیں ہیں۔
ہم اس کو محب وطن نہیں کہتے جو پاک فوج کے خلاف زبان درازی کرتا ہے۔
پاکستان ذندہ باد
پاک فوج ذندہ باد

LEAVE A REPLY